بنگلورو۔2؍جنوری(ایس او نیوز) کرناٹک سے سفر حج بیت اﷲ پر جانے والے عازمین کو کم سے کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے اور اﷲ کے ان مہمانوں کو فریضۂ حج کی ادائیگی میں کسی بھی طرح کی پریشانی نہ ہو ، ہمیشہ سے اس بات کی کوشش کی گئی ہے اور اﷲ کے فضل سے ان کوششوں میں کامیابی بھی ملی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کرناٹک کے حج انتظامات کو ملک بھر میں بہترین قرار دیا جاتاہے اور کرناٹک کے ماڈل کو ملک کی مختلف ریاستوں نے اپنایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج ریاستی وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے کیا۔ ریاستی حج کمیٹی کے دفتر میں حج 2017کے فارمس کا اجراء کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شہر کے مضافات ترومینا ہلی میں تیار شدہ حج گھر میں داخلی سجاوٹ کا کام بہت جلد شروع ہوجائے گا اور آئندہ حج سے قبل یہ عمارت جو پہلے ہی ملک کی خوبصورت ترین حج ہاؤز کی عمارت قرار دی گئی ہے اسے اور بھی سجایا جائے گا۔ اس عمارت میں دہلی کے انڈیا اسلامک سنٹر کے طرز پر عمدہ معیاری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ سال بھر اس عمارت کے استعمال کو یقینی بنانے کیلئے اسے ایک معیاری سرائے کی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ شہر بنگلور میں دور دراز ریاستوں سے آنے والے مسلم تاجروں اور سیاح خاندانوں کو محفوظ ماحول میں خاندان سمیت یہاں قیام کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی اور ساتھ ہی چھوٹے موٹے تاجر جن کی کچھ عرصہ کیلئے بنگلور اکثر آمد ورفت رہتی ہے ڈارمیٹری یا دیگر سہولتیں مہیا کرائی جائیں گی۔ اسی طرح آئی اے ایس ، آئی پی ایس ، آئی ایف ایس یا دیگر مسابقتی امتحانات کی تربیت کیلئے بنگلور کا رخ کرنے والے امیدواروں کے علاوہ سی ای ٹی ، این ای ای ٹی یا دیگر امتحانات کیلئے بنگلور پہنچنے والے طلبا کو اس حج گھر میں رہائش کا انتظام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ 1996 میں جب پہلی بار بنگلور سے عازمین حج کی روانگی کا سلسلہ شروع ہوا تو ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عموماً ایرپورٹ میں کام کرنے والے کسٹمس اور ایمگریشن شعبوں اور فضائیہ کے لگیج وغیرہ کے شعبوں کو ایرپورٹ سے باہر ایک کھلے میدان میں کام کرنے کا موقع فراہم کیاگیا۔گزشتہ 21 سالوں سے یہ نظام شہر میں مسلسل جاری ہے۔ پہلے یتیم خانہ اہل اسلام کے احاطہ سے شروع کیاگیا یہ سفر 2015 تک عیدگاہ قدوس صاحب میں جاری رہا اور حج 2016کے عازمین کی روانگی مستقل حج ہاؤز کی عمارت سے ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ ان کی یہ خواہش ہے کہ حج ہاؤز کی موجودہ عمارت سے متصل جو اوقافی زمین ہے وہاں پر ایک عالیشان مسجد کی تعمیر کی جائے ، حکومت اور وقف بورڈ اگر زمین مہیا کرادیں تومسجد کی تعمیر کیلئے متعدد احباب آگے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہاں ایک عالیشان عیدگاہ بھی تعمیر کی جائے گی جو عام دنوں میں مسلمانوں کے جلسوں اور تقریبات کیلئے استعمال میں لائی جاسکتی ہے اور ساتھ ہی عازمین حج کی روانگی کے مرحلے میں اس میدان پر عازمین کے رشتہ داروں کے ٹھہرنے کا بندوبست کیاجاسکے گا۔ انہوں نے کہاکہ عازمین حج کیلئے کرناٹک میں جو مثالی خدمات اب تک انجام دی گئی ہیں ان کو ہر حلقہ میں سراہا گیا ہے، بار بار مرکزی حکومت نے کرناٹک کے حج انتظامات کو بہترین قرار دیتے ہوئے اعزازت سے سرفراز کیا ہے۔ حج درخواستوں کے اندراج سے لے کر آخری فلائٹ کی روانگی اور تمام عازمین حج کی واپسی تک بھی کرناٹک میں رضاکاروں کی ایک فوج ہمہ وقت مستعد رہتی ہے، اس طرح کا انتظام ہندوستان میں تو دور شاید دنیا کے مسلم ممالک میں بھی نہیں ہوا ہوگا۔ حج درخواست گذاروں سے مخاطب ہوکر جناب روشن بیگ نے کہاکہ قرعہ میں اگر عازمین کا انتخاب نہ ہوپایا تو مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ وہ اس ایمان پر قائم رہیں کہ اﷲ تعالیٰ جن کو اپنے درپر حاضری کیلئے بلانا چاہتے ہیں انہی کو موقع ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ حج درخواستوں کے اندراج کے بعد قرعہ اور روانگی وغیرہ کے سارے انتظامات آن لائن ہیں۔حاجیوں کے انتخاب میں کسی کی سفارش اب نہیں چلے گی۔ کچھ عرصہ قبل یہ تاثر تھا کہ حج کمیٹی کے چیرمین ،وزیر یا افسران کا کوٹہ ہوگا، ایسا کوئی کوٹہ نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل اراکین پارلیمان کو حج کوٹہ حاصل تھا۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اسے بھی ختم کردیا، اسی لئے حج کے قرعہ میں اگرانتخاب ہوجائے تو سفر حج کیلئے تیاری کرلیں اور نہ ہو تو اﷲ کی مرضی سمجھ کر اپنی باری کا انتظار کریں۔ انہوں نے کہاکہ بنگلور میں جب سے عازمین حج کی خدمت کا سلسلہ شروع ہوا ،حجاج کی خدمت کا ایک نیا جذبہ اور جوش ہر ایک میں پیدا ہوا ۔ خاص طور پر عیدگاہ قدوس صاحب میں ہر سال تمام تر سہولیات کی فراہمی کا جو بیڑا امان اﷲ خان سنس کے منیجنگ ڈائرکٹر عباس خان صاحب اور ان کے برادران نے اٹھایا یہ خدمت اپنی مثال آپ ہے۔ اس موقع پر حج انتظامات اور مختلف تاریخوں کے بارے میں تفصیلات ریاستی محکمۂ اقلیتی بہبود ،اوقاف وحج کے سکریٹری محمد محسن نے پیش کیں۔ ریاستی وقف بورڈ کے ایگزی کیٹیو آفیسر سرفراز خان نے خیر مقدمی خطاب کیا، مولانا محمد لطف اﷲ مظہر رشادی نے فریض�ۂ حج کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ان کی دعا کے ساتھ اجلاس اختتام کو پہنچا۔